اس صندوق میں کیا کچھ موجود تھا اور اب یہ صندوق کس کی ملکیت ہے ؟ ایک تاریخی و معلوماتی تحریر

پوری دنیا میں یہودی آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کا روپ دھارے ملکوں ملکوں ‏کھدائی کرتے پھر رہے ہیں لیکن آج بھی اس میں ناکام ہیں۔اس صندوق میں کیا ہے؟۔ یہ صندوق یہودیوں کے لئے زندگی موت کا مسلہ کیوں بنا ہوا ہے؟۔ یہودی اس صندوق کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔

سب سے پہلے ہم قران پاک میں دیکھتے ہیں کہ اس صندوق کی کیا اہمیت تھی اور اس میں کیا تھا۔ ہمارے لئے ‏قران پاک سےبڑھ کرکوئی حوالہ نہیں ۔۔۔وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ۔۔۔‏اور ان سے انکے پیغمبر نے کہا: اسکی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارےپاس آئیگا جسمیں تمہارے رب کی طرف سےتمہارے سکون واطمینان کاسامان ہےجسمیں آل موسیٰ و ہارون کی چهوڑی ہوئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹهائے ہوئے ہوں گےاگر تم ایمان والے ہو تو یقینا اسمیں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے ‏اس آیت مبارکہ میں لفظ تابوت کا مطلب صندوق اور سکینہ کا مطلب ایسا سامان جس سے دل کو سکون اور راحت ملے۔ یعنی اس صندوق میں ایسا سامان تھا جس کی برکت سے دلوں کو مضبوطی اور تسکین ملتی تھی۔تفاسیر کے مطابق یہ صندوق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر جنت سے اتارا گیا تھا ‏یہ ” شمشاد” نامی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ اس مقدس و متبرک صندوق میں حضرت آدم علیہ السلام اپنا ضروری سامان رکھا کرتے تھے۔ یہ صندوق نسل در نسل چلتا ہوا حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل تھا ان کی اولاد بنی اسرائیل یعنی اولاد اسرائیل کہلائی ‏حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا جن کی نسل کو ھم یہودیوں کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ صندوق بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے پاس آ گیا۔

یہودیوں کے پہلے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے یہ صندوق ان کے زیراستعمال رہا۔ اس میں آپ علیہ السلام اپنا عصا مبارک اور ‏آپ پر نازل ہونے والی تورات کی لوحیں رکھا کرتے تھے یعنی اس صندوق میں انبیا کے معجزات کی اشیا محفوظ ھوتی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے پر انکے لباس عصا مبارک ، عمامہ مبارک اور آسمان سے اتارا جانے والا من و سلویٰ بھی اس صندوق میں محفوظ ‏کر دیا گیا اور یہ صندوق قوم کے سرداروں کی تحویل میں چلا گیا۔ یہ معجزات اللہ کی طرف سے ان انبیا پر اتارے گئے تھے چناچہ ان کی برکت سے اس صندوق کو خاص فضیلت حاصل تھی۔بنی اسرائیل کے لوگ اس صندوق کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی اس صندوق کی برکت سے ان کو بہت زیادہ فوائد ‏حاصل ہوتے تھے کبھی کوئی آسمانی آفت آتی تو یہ اس صندوق کے سامنے بیٹھ کر دعا کرتے تو وہ آفت حیرت انگیز پر فورا” ٹل جاتی۔کبھی زلزلہ ، سیلاب خوفناک آندھی و طوفان آتا تو یہ تابوت سکینہ کے وسیلے سے دعا کرکے اس سے نجات پا لیا کرتے۔ یہ قوم بہت عجیب و غریب عادات کی مالک تھی ایک طرف تو صندوق اور اس میں موجود اشیا کا احترام اس قدر کہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا دوسری طرف اللہ کے احکامات سے مکمل روگردانی کرنا ان کا معمول بن چکا تھا۔ یہ نہایت ضدی اڑیل مغرور اور سرکش لوگ تھے ‏حد سے زیادہ لالچی مال دولت سے محبت کرنے والے اور ظالم تھے اپنے انبیا اور علما کی روک ٹوک پر ان کو خوفناک اذیتیں دیا کرتے تھے۔ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھنے لگی تو اللہ نے ان کو عذاب دینے کے لئے ان پر قوم عمالقہ مقرر کر دی۔ اس قوم کے بادشاہ جالوت نے ان پر انتہائی زبردست دھاوا بولا اور ‏انکی بستیاں اجاڑ دیں ، شہروں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر بنا دیا اور ان کا تابوت سکینہ چھین کر ساتھ لے گیا۔ مفسرین کے مطابق اس نے اس تابوت کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ تابوت کی اس بے حرمتی پر اللہ کی طرف سے قوم عمالقہ پر اللہ کا عذاب ‏نازل ہوا۔جس شہر کے گندگی ڈھیر پر یہ صندوق پھینکا گیا تھا

اس شہر میں ایک عجیب سی وبا پھوٹ پڑی جس کا کسی حکیم معالج کے پاس علاج نہیں تھا۔ لوگ بہت تیزی سے لقمہ اجل بننے لگے۔ لوگ پریشان ہوکر حاکم شہر کے پاس پہنچے اس نے کاہنوں کو جمع کیا اور ان سے اس عذاب کی وجہ معلوم کرنا چاہی۔ کاہنوں نے حساب لگا کر بتایا کہ اس عذاب کی وجہ تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی ہے۔وہ لوگ اس صندوق کو بنی اسرائیل کو کسی صورت میں واپس نہیں کرنا چاہتے تھے چناچہ یہ صندوق ایک دوسرے شہر میں پہنچا دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر صندوق پہنچانے کے بعداس شہر میں بھی وہی خوفناک مرض پھوٹ پڑا ‏اور ہزاروں کی تعداد میں روزانہ انسان مرنے لگے۔ کہا جاتا ہے اس صندوق کی وجہ اس قوم کے پانچ شہر مکمل طور پر تباہ ھوگئے مختلف آفات امراض نے اس قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس پر فیصلہ کیا گیا کہ یہ تابوت واپس بنی اسرائیل کو دے دیا جائے۔ صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھا گیا اور اسے شہر ‏سے نکال دیا گیا۔ خدا کی قدرت سے بیل اس صندوق کو لیکر بنی اسرائیل کے ملک کی طرف روانہ ھوگئے۔ دوسری جانب اس زمانے میں بنی اسرائیل میں حضرت شموئیل علیہ السلام معبوث کئیے گئے تھے ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام، طالوت کو جو کہ ایک نیک انسان تھے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانا چاھتے تھے ‏جبکہ بنی اسرائیل حسب معمول سرکشی اختیار کئیے ہوئے تھے۔اپنے نبی کی کسی بات پر عمل کرنے کو تیار نہیں تھے۔ آخرکار قوم کے سرداروں نے جان چھڑانے کی خاطر حضرت شموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اللہ کے سچے نبی ہیں اور چاھتے ھیں کہ ان کا حکم مانا جائے تو وہ دعا کریں کہ ‏ان کا قیمتی اور مقدس تابوت سکینہ ان کو واپس مل جائے اگر ان کی دعا قبول ھوگئی تو وہ ان کی ہر بات تسلیم کر لیں گے۔

اس پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے حکم ربی سے ان کے ساتھ وعدہ کر لیا کہ تابوت سکینہ اگلے روز صبح تک خودبخود انکے پاس پہنچ جائے گا۔ اس پر سردار ان کا مذاق اڑانے لگے ‏کیونکہ وہ قوم عمالقہ کی غضبناکی سے اچھی طرح واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے قبضے سے اس تابوت کا واپس ملنا ناممکن تھا۔ اگلے روز بیل گاڑی پر لدا ہوا تابوت سکینہ ان تک پہنچ گیا جس پر حسب وعدہ انہوں نے اپنے نبی کا حکم مان کر طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا اوپر والی قران پاک کی ‏آیت میں اسی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ تابوت سکینہ دوبارہ حاصل ہونے پر اس قوم کے حالات میں ایک بارپھر بہتری آنے لگی لیکن انکے اعمال وہی رھے۔پھر حضرت داؤدعلیہ السلام کا دور آیا، اسوقت تک یہ قوم خانہ بدوشوں کی سی زندگی گذارتی تھی اور تابوت سکینہ بھی ایک خیمہ میں ہی رکھا جاتا تھا۔ ‏حضرت داؤد علیہ السلام نے ان کے لئے ایک عبادت گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا جسے ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کے مقام پر عظیم الشان عبادتگاہ کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تابوت سکینہ کو خیمے سے نکال کر اس عبادتگاہ میں رکھ دیا گیا۔ اس عبادت گاہ کے ‏تابوت سکینہ والے حصے میں سوائے انبیا اور سب سے بڑے عالم کے کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد آپ کی انگوٹھی مبارک بھی اسی تابوت میں محفوظ کر دی گئی۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اس وقت تک یہ قوم اس قدر گمراہی میں ڈوب چکی تھی کہ اللہ کے ‏پیغمبروں کی تذلیل و تحقیر انکا معمول بن چکی تھی ان پہ ظلم انکے لئے عام سی بات تھی۔

اللہ تعالی ان سے سخت ناراض ہوگیا۔ ‏یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 586 سال پہلے کی بات ہے کہ حضرت یحیٰ کی موت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد عراق کے بادشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر بہت بڑی چڑھائی کی ، اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لاکھوں یہودی جان سے گئے اور لاکھوں کو غلام بنا لیا۔ بیت المقدس کو مکمل تباہ کر دیا ‏اور اس میں رکھے تابوت سکینہ کو قبضے میں لے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ وقت بنی اسرائیل پر تاریخ میں سب سے کڑا تھا۔ بخت نصر نے تابوت سکینہ کا کیا کیا، یہ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔تابوت سکینہ ہمیشہ کے لئے یہودیوں سے چھن گیا۔ساتھ ہی یہودی قوم۔۔۔۔ وہ قوم جو تاریخ کی سب سے ‏بہترین قوم تھی۔ جسے اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کا فخر حاصل تھا اپنی بداعمالیوں کیوجہ سے ہمیشہ کیلئے اللہ کی بارگاہ میں ملعون ہوگئی۔ دنیا میں رسوا ہوکر رہ گئی۔آج یہودیوں کو دو ہزار سال بعد دوبارہ اسرائیل کی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع ملا ہے تو بھی اس قوم کی وہی عادات و اطوار ہیں ‏وہی ظلم و جبر، دھونس دھاندلی، تکبر،خود کوساری دنیا سے اعلیٰ و ارفع سمجھنے کا خناس، اللہ کی طرف سے لعنت زدہ ہوجانے کے باوجود بھی ابھی تک اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کی خوش فہمی موجودہے۔

وہی مال و دولت کا لالچ اور مال جمع کرنے کے وہی صدیوں پرانے شیطانی طریقے، انکا کچھ بھی نہیں بدلا۔ ‏آج بھی اسی جگہ حضرت سلیمان علیہ السلام والی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا جنون اور اسی طرح تابوت سکینہ کو دوبارہ حاصل کرکے ھیکل سلیمانی میں رکھنے کا بخارہے۔ یہ آج بھی مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار جو ٹائٹس کے دھاوے میں بچ گئی تھی ھیکل سلیمانی کی آخری نشانی سمجھ کر اس سے لپٹ لپٹ کر دھاڑیں ‏مار کر روتے ہیں۔ اپنی عظمت کے دنوں کو یاد کرکے رونا انکی عبادت بن چکی ہے لیکن ابھی تک ناسمجھ ہیں۔ ان کے جنون اور ماضی سے لپٹے رھنے کا یہ عالم ہے کہ پورے کرہ ارض کو کھود کر اس میں سے تابوت سکینہ تلاش کرتے پھر رھے ھیں۔ان کو اپنے مسایا (آخری مسیحا) کا بے صبری سے انتظار ہے ‏جس کے جھنڈے تلے ایک بار پھر ان کو پوری دنیا پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ اس ایک آنکھ والے مسایا (دجال اکبر) سے انکو اس قدر محبت ہے کہ پوری دنیا میں اس کی ایک آنکھ کی نشانی کا پرچار کرتے پھر رھے ھیں۔اسکی آمد پر متحد ھونے کیلئے کئی خفیہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو اسے خوش آمدید کہہ کر ‏کر اسے خدا مان لیں گی۔ تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں ۔ اس پر انگریز عیسائیوں اور یہودیوں نے بڑی ریسرچ کیں ہیں۔ لیکن حتمی طور پر سارے ایک نقطے پر متفق نہیں ہوسکے۔ لیکن مجھے جو سب سے

قرین قیاس تھیوری لگتی ہے وہ یہ کہ اس وقت ‏یہ صندوق یا تابوت حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کہیں دفن ہے۔ جو فلسطین میں آج بھی گم ہے جس کو یہودی کافی عرصے سے ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور آئے دن وہاں بیت المقدس میں کھدائی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے متعلق بہت سے نظریات ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ تابوت اب بھی ‏حضر ت سلیمان علیہ السلام کے محل کے اندر ہی کہیں دفن ہے۔ کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا۔ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے۔ جبکہ کچھ سکالرز کا ماننا ہے کہ ‏یہ تابوت ایتھوپیا کے تاریخی گرجا گھر ایکسم میں پڑا ہواہے۔ ایک اور نظریہ ہے کہ یہ بحیرہ مردار کے قریب ایک غار کے اندر کہیں گم ہو چکا ہے۔ ‏ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے 1981 میں اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پہلے محل سے کھدائی کے دوران نکال کر کہیں نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا ہے۔ جبکہ کھدائی کرنے والے یہودیوں کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس صندوق کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ لیکن اسرائیلی گورنمنٹ نے ‏مسلمانوں اور عیسائیوں کے پریشر میں آکر اس کی کھدائی پر پابندی لگا دی تھی۔ اسلئے انہیں یہ کام نامکمل ہی چھوڑنا پڑا۔بہرحال انکی کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تابوت کہاں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.