بس اللہ جس کے دل کو دین اسلام سے منور کر دے ۔۔۔!!!کتنے ہندو خاندانوں اسلام قبول کر لیا ؟ جان کر ہر کوئی بے ساختہ سبحان اللہ کہہ اٹھا

سیالکوٹ(ویب ڈیسک)ہندو خاندان نے اسلام کی حقیقت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ بتا گیا ہے کہ آستانہ توحید آباد سے سید ہارون شاہ ، آستانہ رنگپورہ سے عابد حسین شاہ اور سید آصف گیلانی نے ہندو خاندان کو کلمہ طیبہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ مذہبی رہنماؤں نے نو مسلم خاندان کے نام بھی

تبدیل کر دئیے ہیں، اب رخسانہ کماری کا نیا نام غلام فاطمہ ، رام کماری کا نور عائشہ،سیتا کماری کاخدیجہ بی بی اور راج کمار کا محمد سبحان نام رکھا گیا۔بتایا گیا کہ رنگپورہ سیالکوٹ کا رہائشی یہ خاندان اسلام کی حقیقت سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا ہے۔ شہری حلقوں نے نومسلم خاندان کو اسلام قبول کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ معروف سماجی شخصیت حاجی محمد آصف وینس نے نو مسلم خاندان کی مالی معاونت بھی کی اور انہیں دین اسلام میں داخل ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بدین کے ایک گاؤں میں سندھ کے سودیشی ہندؤں کی بھیل ذات سے تعلق رکھنے والے 102 افراد نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ضلع بدین کی تحصیل گولاڑچی کے نواحی گاؤں گوٹھ حبیب الرحمان پسیو میں اسلام قبول کرنے والے 12 ہندو خاندان کے 102 افراد میں نوجوان اور بوڑھے مردوں کے ساتھ خواتین، نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور کمسن بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ہندوؤں کے اسلام قبول کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں گاؤں کے کمسن بچے، نماز کے دوران پہنی جانی والی سفید رنگ کی ٹوپیاں پہنے گھومتے نظر آئے۔مقامی افراد کے مطابق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے آئے مذہبی رہنما مولانا احمد حسین پٹھان نے ان تمام افراد کو کلمہ پڑھایا اور ان سب کے اسلامی نام بھی رکھے۔گوٹھ حبیب الرحمان پسیو کے رہائشی جن کا نام قبولیت اسلام سے پہلے ساون بھیل

تھا اور اب ان کا نام محمد اسلم شیخ رکھا گیا ہے نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ’مذہب تبدیلی والی یہ تقریب کسی اور نے نہیں منعقد کی تھی بلکہ میں نے اور میرے بڑے بھائی نے اپنی جیب سے 32 ہزار روپے خرچ کرکے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا، تاکہ ہم سب مسلمان ہوسکیں اور حیدرآباد سے مولوی کو بھی منگوایا۔ اس کے علاوہ آس پاس کے گاؤں کے وہ افراد جو مسلمان ہونا چاہتے تھے ان کو بھی مدعو کیا۔‘مذہب تبدیل کرنے والوں میں گوٹھ حبیب الرحمان پسیو کے رہائشی محمد اسلم شیخ، ان کی بیوی، چار بیٹیوں کے ساتھ ان کے بھائی اور بھائی کے خاندان، دو چچا اور تین چچا زاد بھائیوں سمیت پانچ خاندان شامل تھے، جبکہ سات دیگر خاندانوں کا تعلق گولاڑچی تحصیل کے دیگر چھوٹے بڑے گاؤں سے تھا۔محمد اسلم شیخ کے مطابق ’گذشتہ دو دہائیوں میں ہمارے ایک ہزار سے زائد رشتہ دار مسلمان ہوچکے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں سندھ کے شہروں ٹھٹہ، بدین، کراچی اور بلوچستان کے حب میں موجود ہماری برادری کے لوگوں کے گاؤں کے گاؤں مسلمان ہوئے، وہ افراد جن کو پتہ نہیں ان کے لیے یہ تعجب کی بات ہے، مگر ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں۔‘’پانچ سال پہلے میری شادی شدہ بہن اور اس کا پورا خاندان بھی مسلمان ہوگیا تھا۔ میرے بہن کے چار بیٹے تھے مگر کوئی بیٹی نہیں تھی، تو میں نے اپنی ایک بیٹی اپنی بہن کو گود دی تھی، جو مسلمان ہوگئی تھی۔ میری چار بیٹیاں ہیں مگر اکثر رشتہ داروں کے مسلمان ہونے کے باعث بیٹیوں کے بیانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہی حال میرے بھائی اور چچا زاد بھائیوں کا ہے اور پچھلے مذہب میں خون کے رشتوں میں بیٹے یا بیٹیوں کی شادی کر نہیں سکتے اس لیے مذہب تبدیل کیا۔ اب میں آسانی سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کروا سکوں گا۔ میرے کچھ اور رشتہ دار اگلے مہینے مسلمان ہوجائیں گے۔‘بدین میں نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے صحافی محمد حنیف زئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ماضی میں بھیل برادری کا ایک فرد مسلمان ہوا جس کا اسلامی نام دین محمد شیخ رکھا گیا تھا انھوں نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے اپنی پرانی برادری کے کئی خاندانوں کو اسلام قبول کروانے میں مدد کی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.