قائد اعظم محمد علی جناح کی زہانت اور حاضر دماغی کے چند واقعات خوبصورت تحریر

دوستو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک آئیڈیل اور بہترین لیڈر ثابت ہوئے بلکہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا قائداعظم محمد علی جناح کی ذہانت اور سیاست کو خوب سراہتی تھی اور اس زہانت کو آج بھی تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا انتخاب کرتے ہوئے پاکستان بنایا بلکہ پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ گاندھی کے ہندوستان کی آزادی کیلئے نصیب کھول دئے خدانخواستہ اگر اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر ہند کے مسلمانوں کی آواز نہ بنتے تو آج پاکستان ایک آزاد ریاست نہ ہوتا اور یہاں برصغیرہند میں آج بھی انگریزوں کی ظالمانہ حکومت ہوتی اور ہم انگریزوں کے بدترین غلام
دوستو قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف بہترین ذہانت کے مالک تھے بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح اپنے دور کے حسین و جمیل خوبصورت اور دلکش دکھنے والے پرکشش نو جوان تھے جن سے نہ صرف انیسویں صدی کے نوجوان متاثر ہوئے بلکہ انیسویں صدی کی انگریز ہندودو مسلمان امیر اور خوبصورت ترین لڑکیاں بھی آپ کو پانے کی جدوجہد میں مگن رہتی تھیں

دوستو آج کی حیران کن اور تحقیق پر مبنی بہترین آرٹیکل میں قائد اعظم محمد علی جناح پرخوبصورت لڑکیوں کی طرف سے لگائے گئے زبردستی کرنے کے دو عجیب اور حیران کن الزامات کے بارے میں بتائیں گے اور ساتھ یہ بھی بتائیں گے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیسے اپنی حاضر دماغی اور ذہانت سے اس جھوٹے اور ناپاک مقصد کو چند منٹوں میں جھوٹا اور سازش ثابت کیا اور ساتھ یہ بھی بتائیں گے
کہ دلی میں مسلمانوں کی مسجد کے اوپر مندر بنانے کا کیس جو ہندوستان کے مسلمان قائد اعظم کے پاس لائے اس میں قائد اعظم کو بتایا گیا کہ ہندؤں نے مسجد کی چھت کی زمین خرید لی ہے اور اوپر مندر بنانا چاہتے ہیں کیونکہ تب پراپرٹی قوانین کے مطابق زمین کے اصل مالک کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس کی زمین پر بنائی گئی عمارت کی چھت کو بھی کسی دوسرے کو فروخت کر سکتا تھا کسی اور کی چھت کے اوپر آپ اصل مالک سے زمین خرید سکتے تھے
اور اس کے اوپر اپنی من مرضی کی عمارت تعمیر کر سکتے تھے اس کیس کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے کیسے اپنی ذہانت سے مسلمانوں کے حق میں کروایا اور کیسے تب اس پراپرٹی کے فضول قانون کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے محض ایک تاریخ پیشی پر غلط ثابت کر کے ختم کروایا
دوستو پہلے بات کر لیتے ہیں اس کیس کی جو قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس مسجد کے اوپر مندر کی تعمیر کے لئے آیا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے اپنے تیز دھار دماغ سے حل کروا کر ہندوؤں اور انگریز کے بنائے گئے زنگ آلود قانون کو چند لمحوں میں روند دیا اور پوری دنیا میں واہ واہ پائی

مسلمانوں کا ایک پریشان کن گروہ قائد اعظم محمد علی جناح کے چیمبر میں آتا ہے اور اس کے معززین پریشان حالت میں کہتے ہیں علی جناح صاحب ہم مسلمانوں پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی ہے آپ کا بہت نام سنا ہے آپ ہر چیز میں ہر کیس کو اپنی مہارت کے ساتھ حل کرتے ہیں اس کیس نے ہمیں ہندوؤں اور اس افسردہ نظام کے ساتھ الجھا رکھا ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے سب کو اپنے چیمبر میں بٹھایا اور ٹھنڈا پانی پیش کیا کہا کیس تفصیل سے بیاں کریں مگر پہلے پانی پی لیں اور ضروری کاغذات جمع کروائیں

ان میں سے ایک شخص اٹھا اور کیس کی تفصیل بیان کرنے لگا جس میں اس نے کہا جناب ہم نے اے بی سی سے مسجد کی تعمیر کے لیے جگہ خریدی جس کی لمبائی اے بی سی ہے اور سطح زمین سے اونچائی 18 فٹ تک مالک کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اسے رقم ادا کی گئی
18 فٹ اونچائی تک عمارت کی تعمیر کے بعد مزید اوپر مکان یا تعمیرات بنانے کیلئے زمین کا اصل مالک ہندوستان کے قانون کے مطابق کسی اور کو زمین فروخت کرنے کا حق حاصل ہے مگر ہندوؤں کو اس بات کی خبر ہوئی کہ مسلمانوں نے اس شخص سے یہ زمین سطح زمین سے 18 فٹ اونچائی تک مسجد کی تعمیر کیلئے خرید رکھی ہے تو ٹھیک اسی زمین کے مالک سے ہندوؤں نے مسجد کی 18 فٹ تعمیر سے اوپر کا حصہ پیسے دے کر مندر کے لیئے خرید کر مختص کر لیا ہے اب ہندو اس انتظار میں ہیں کہ مسجد بنائیں اور وہ اس کے بعد مسجد پر مندر کی تعمیر کریں جو گناہ کبیرا ہوگا اورمسلمانوں کے ہوتے ہوئے مسجد کی بے حرمتی بھی اور مسلمانوں کے صبر کا امتحان بھی

قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے سگریٹ سلگائی ایک لمبا سا کش لیا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا آپ نے مسجد کے لیے سطح زمین سے 18 فٹ اونچائی تک تعمیر کیلئے زمین خریدی ہے آپ ایسا کریں مسجد کی چھت 17 فٹ سطح زمیں سے اوپر رکھیں اور ایک فٹ چھوڑ دیں جس دن ہندو اپنے مندر کی تعمیر کے لئے کنکریٹ لائیں تو آپ مجھے طلب کر لیجئے گا

مسلمانوں نے ویسا ہی کیا جو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا سطح زمین 18 فٹ اونچی خریدی گئی جگہ میں صرف 17 فٹ اونچی چھت تعمیرکی گئی اور ایک فٹ اونچائی چھوڑ دی گئی ہندو بہت خوش ہوئے کہ مسلمانوں نے یہ جانتے ہوئے کہ ہم اوپر مندر کی تعمیر کریں گے
اس کے باوجود مسجد تعمیر کر لی لہذا انہوں نے مندرکی تعمیرکے لیے کنکریٹ اکٹھا کرنا شروع کردیا مال اکٹھا کرنے کے بعد تعمیرات کے لیے مستری اور مزدورں کا بندوبست کیا گیا تو مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو تعمیرات کے موقع پر بلا لیا قائداعظم نے مکمل تحقیق کرنے کے بعد ہندوؤں سے پوچھا کہ آپ نے سطح زمین سے 18 فٹ سے اوپر کا حصہ مندر کے لئے خرید رکھا ہے
سارے ہندو طنز و مزاح میں ہاں ہاں کرنے لگے تو قائد اعظم رحمت اللہ علیہ نے اپنی زبردست زہانت سے فرمایا مسلمانوں نے بھی اپنے حصے کی جگہ مکمل تعمیر نہیں کی ہے ان میں سے ایک ہندو چونکا اور کہا وہ کیسے تو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مسلمانوں نے مسجد کی اونچائی 18 ف

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.