لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والا واقعہ حقیقت کیا ہے تفصیل

دوستو یقین جانئے حکومت وقت اور جناب عمران خان کی کابینہ کی مہربانی ہے کہ انہوں نے پاکستان میں پاکستانی عوام کو مست کرنے کیلئے بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دی مگر میری ان سے التجا ہے کہ بھنگ دکھ تکلیفیں بھوک لاقانونیت اور ناانصافیوں کیلئے ناکافی ہے ملک میں چرس گانجا اور حفیم اور اس سے مذید طاقتور نشے اگانے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام خود کے ساتھ پیش آنے والے جنگل کے قانون اس کے مسائل اور حکومتی ہٹ دھرمی سے بے خبر رہتے ہوئے نشے میں مست رہے ملک میں سانحہ ساہیوال جیسا پولیس کی غنڈہ گردی میں تاریخی اور بدترین واقعہ ہوتا ہے عمران خان صاحب کویت سے بیٹھے عوام کو یقین دہانی کراتے ہیں مجھے واپس آنے دو ذمہ داران کو سرعام پھانسی دوں گا آج تک وہ شخص یا تو کویت سے واپس نہیں آیا یا آتے ہی اس گندے سسٹم اور ان بدکرداروں کا شکار ہو گیا جنہوں نے اس ملک کو مفلوج کر رکھا ہے

ایک طرف پولیس نہتے لوگوں کو دن دیہاڑے لوٹ کراپنی دہشت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر دیتی ہے تو دوسری طرف پولیس کے بنائے ہوئے پالتو کتے نما درندے کسی راہ چلتی گاڑی کو روک کر عورت کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے بد ترین جسمانی زیادتی کرتے ہوئے لوٹ مار کر کے چلے جاتے ہیں اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے تو پولیس کے اعلیٰ عہدیداران کا جواب ملتا ہے آدھی رات کو گھر سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی یہ عورت جس راستے پر گئی یہ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں آتا

دوستو یہاں میرا آپ باشعور لوگوں سے سوال ہے کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس عورت نے جب اس کی گاڑی موٹروے پر بند ہوئی تو اس نے پولیس کو کال کی پولیس نے علاقہ حدود سے انکار کرتے ہوئے عورت سے معافی مانگتے ہوئے معزرت کی یہ بات صرف اس عورت کو پتہ تھی کہ یہ اپنی کار میں اکیلی تین معصوم بچوں کے ساتھ موجود ہے یا اس کے ایک رشتہ دار کو اور اس کے علاوہ یہ بات پولیس کو اس عورت نے خد کال کر کے بتائی بلا گاؤں کے چور لٹیروں کو کیسے خبر ہوئی یہ عورت بیچ روڈ پر کار میں نہتی اور اکیلی موجود ہے اس بات کو عمران خان صاحب تک پہنچانے کے لیے آپ نے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور عورتوں اور بچوں کیلئے فکر مند شہری ہونے کا کردار ادا کرنا ہے کیوں کہ آج یہ معاملہ اس ایک اکیلی عورت کے ساتھ زیادتی کا نہیں بلکہ سانحہ ساہیوال کی طرح پورے پاکستان کے لیے دل خراش ہے کیونکہ سانحہ ساہیوال کے لوگ سرکاری لائسنس یافتہ غنڈے تھے اور گندے سسٹم میں موجود اپنے سہولت کاروں اور اعلی عہدے داران کی وجہ سے آج بھی آزاد ہیں

چند دنوں میں اجتماعی زیادتی اغوا برائے تاوان ڈکیتیوں اور چوریوں کے واقعات عروج پر جاتے جا رہے ہیں حکومتی اعلی عہدے داران عوام کو بھنگ پر لگانے کے ساتھ ساتھ خود مہنگے نشے کی لت میں اندھے بہرے اور گونگے بن چکے ہیں جو ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا تو اس کی آواز دبا دی جاتی ہے یا پھر اسے اٹھا کر نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے دکھ کی بات یہ ہے کون بولے گا کون آواز اٹھائے گا اس غلیظ نظام پر ان بد کردار حکمرانوں پر جو ایوانوں میں بیٹھے اپنی کرسیوں کی عیاشیوں میں مصروف ہے آج یہ عورت گجر پورہ کے قریب عزت سمیت لوٹی گئی کل آپ کی اور میری بہن بیٹی بیوی اور ماں کسی کو بھی لٹا جا سکتا ہے کسی کے ساتھ بھی ذیادتی ہو سکتی ہے کب تک آپ خاموش رہیں گے نظام یہی رہا تو ہم اور آپ کہاں سے انصاف کی امید رکھیں گے جتنے بھی فرعون بیٹھے ہیں

چاہے وہ سرکاری خزانوں پر ہیں چاہے وہ سرکاری ملازمتوں پر ہیں یا پھر اعلی عہدیدارن سیاسی لیڈرز یہ سب ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہیں ہم نے خود ان کو ووٹ دے کراپنے سروں پر مسلط کیا ہے اور اگر آج ہم ان واقعات پر ان سے جواب طلب نہیں کرسکتے آج نہیں کر سکے تو کبھی نہیں کر سکیں گے آپ سے درخواست ہے ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کرنے کی کوشش کیجئے گا تاکہ ہر اس شخص کو غیرت ملے جس نے اس انصافی تحریک کو عروج دینے کے لیے جدوجہد کی اور عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں اپنا کردار نبھایا پاکستان مدینہ کی ریاست بنے یا نہ بنے لیکن فی الحال پولیس کی بدکرداریوں سے کنجروں کی لونڈی بن چکا ہے

دوستو آج کی ویڈیو میں بات کریں گے اس خاتون کی جسے بچوں کے سامنے عزت سمیت لوٹ لیا گیا اس سے چند دن پہلے ایک وکیل خاتون کو اس کے چیمبر سے اغوا کر کے اسکی عزت لوٹی گئی اور کمسن بچیوں کی جنہیں زیادتی کا نشانا بنا کر قتل کر دیا گیا یہ سب کامیابیاں تھیں مگر مجرمان کی پولیس کی کوئی کامیابی کہیں نظر نہیں آتی پولیس کہاں ہے کیوں ایکشن نہیں لیا جاتا آج کی ویڈیو میں حق سچ پر بات کریں گے

دوستو ذرا سوچئے ایک عورت اپنے معصوم بچوں کے ساتھ روڈ پر اکیلی سفر کرتی ہے بیچ روڈ پراس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے یہ عورت کسی اور پر اعتبار نہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کو کال کرتی ہے بھائی اسے موٹروے پولیس کو کال کرنے کی ہدایت کرتا ہے اسے حوصلہ اور تسلی ہونے کے بعد اور بھائی سے پولیس کو کال کرنے کا اعتماد ملنے کے پر اس نے موٹروے پولیس کو کال کی اسے اپنی لوکیشن اور پیش آنے والا مسئلہ بتایا موٹر وے پولیس کا کال پر موجود نمائندہ ساری تفصیل سننے کے بعد کہتا ہے محترمہ یہ حدود ہماری موٹروے پولیس کے علاقے میں نہیں آتی یہ کال بند کرنے کے بعد دوبارہ اپنے بھائی کو کال کرتی ہے اور موٹروے پولیس کا موقف بیاں کرتی ہے اس کا بھائی اسے گاڑی میں بیٹھے رہنے کی ہدایت کرتے ہے اور اپنے پہنچنے کی تسلی دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ اپنی گاڑی اچھے سے لاک کر لو یہ عورت ٹھیک وہی کرتی ہے جو اس کی بھائی کی ہدایات تھیں پولیس کو کال کیے چند ہی منٹ گزرتے ہیں

تو دو شخص پر مطمئن انداز سے اس عورت کی گاڑی پر حملہ کر دیتے ہیں اسے شیشے کھولنے یا دروازہ ان لاک کرنے کا کہا جاتا ہے مگر یہ عورت نہیں کھولتی یہ درندے نما انسان گاڑی کا شیشہ توڑتے ہیں گاڑی میں موجود تمام قیمتی سامان اٹھاتے ہوئے اس عورت اور اس کے معصوم بچوں کو کھیتوں میں لے جاتے ہیں کھیتوں میں موجود جھاڑیوں میں معصوم بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ ان معصوم بچوں کی جنت کے ساتھ زبردستی اجتماعی زیادتی کی جاتی ہے
دوستوں فکر کی بات یہ ہے یہ بات صرف اس عورت کو معلوم تھی یا اس کے بھائی اور موٹروے پولیس کے اس نمائندے کو جسے مدد کے لیے کال کی گئی

اب یہاں میرا ایک سوال ہے کیا آس پاس کے گاؤں میں موجود ڈاکوؤں کو خواب آیا کہ بیچ موٹروے پر ایک گاڑی کھڑی ہے جس میں بیٹھی ایک مجبور عورت اکیلی ہے اور اس کی گاڑی کا پیٹرول بھی ختم چکا ہے یہ گاڑی چل بھی نہیں سکتی ذرا غور کیجئے کوئی شخص اگر رکی ہوئی گاڑی کے پاس جاتا ہے تو شیشہ توڑنے کے لئے بھی اسے کچھ تو وقت درکار ہوگا اگر گاڑی میں موجود شخص چاہے تو محض دو ہی سیکنڈ میں گاڑی کو سٹارٹ کرے اور گاڑی بھگا کر لے جائے اس میں مجرمان کے پکڑے جانے کے چانس بھی بہت ذیادہ ہوتے ہیں یقینا یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ سب جانتا تھا کہ گاڑی میں موجود خاتون بے بس تھی لاچار تھی اس کی گاڑی بھی چلنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس عورت کے پاس کسی قسم کا کوئی آلہ موجود نہیں جس سے یہ احتجاج یا حملے کا جواب دے سکے
دوستو پاکستان میں خاص طور پر پرامن صوبہ صوبہ پنجاب میں راہزنی غنڈا گردی چوری ڈکیتی اور قتل عام کے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں ظاہر سی بات ہے جرم کرنے والے تب ہی جرم کرتے ہیں جب انہیں پتہ ہو یا تو قانون سو رہا ہے یا پھر قانون موٹے داموں بک رہا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بدترین لوگ عام لوگوں کا جینا محال کر دیتے ہیں

اس سے چند دن پہلے ایک شادی شدہ پانچ بچوں کی ماں ایک وکیل عورت کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا جسے اس کے دفتر سے دن دہاڑے اغوا کیا گیا اور جسمانی اور جنسی ذیادتی کا نشانہ بنا کر بیچ روڈ پھینک کر فرار ہوگئے میرا سوال ہے پولیس سے میرا سوال ہے قانون کے رکھوالوں سے کیا بنا اس وکیل خاتون کے ساتھ جسمانی زیادتی کرنے والے مجرمان کا جواب ہے شواہد نہیں ملے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے حکومت پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر وہ چیز خرید کر مہیا کی جو کسی ترقی یافتہ ملک کے پاس ہونی چاہیے حقیقت یہ ہے یا تو مجرم ان ان کالی بھیڑوں میں موجود ہوتے ہیں یا پھر زیادہ تر وہ ہوتے جو قانون کو خرید لیتے ہیں قانون کے شکنجے میں پھنستا وہ ہے جو دوسرے چھوٹے موٹے جرم کرتا ہے جو قانون کو خریدنے کی حیثیت نہیں رکھتا انہیں بکری چوری سائیکل چوری کسی کے برتن چرا لینا کے جرم میں اٹھا کر اس پر وہ تمام جرائم ڈال دیے جاتے ہیں جس کے لیے کالی بھیڑوں نے پیسہ لیا ہوتا ہے

تاکہ حکومت کی نظر میں خانہ پوری کریں بڑے بڑے جرائم کی ذمہ داری ایک غریب مجرم پر ڈال دی جاتی ہے اور وہ مسکین ساری عمر بکری چوری کے کیس میں جیل میں سڑتا رہتا ہے اس کے اہل خانہ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ اس کے لیے کسی چھوٹے موٹے وکیل کو اس کا کیس سونپا جائے عدالت کو حقیقت بتائی جائے کہ یہ محض بکری چور تھا کوئی ڈکیت نہیں کوئی راہ زانی نہیں کوئی قاتل نہیں
دوستو اس طرح کے مزید کتنے اور واقعات ہیں جن کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنا ابھی باقی ہے مگر مجھے ڈر ہے آپ نے میرا ساتھ نہ دیا تو یہ سسٹم کے گندے انڈے اور بدترین لوگ مجھے بھی نشان عبرت بنا دیں گے
آخر میں میری جناب عمران خان صاحب سے درخواست ہے

جناب عمران خان صاحب میں خود ایک پولیس زیادہ انسان ہوں میرے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی پولیس نے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی میں نے خود اپنی مدد آپ بہت سارے اہم شواہد اکٹھا کئے جس میں سو فیصد سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق مجرمان کی تصدیق کی جاسکتی تھی مجرمان کا ہلیہ ان کے نام کی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والدین اور ان کے مجرمانہ پیشے کا ریکارڈ موجود تھا مگر جب یہ سب پولیس کو دیا گیا تو الحمدللہ پنجاب کے قابل ترین اور ٹیکنیکل کیس ہینڈل کرنے والے اے ایس آئی نے تمام ثبوت مٹانے کی کوشش کی جن میں ابھی بھی اہم ثبوت میرے پاس ہیں لیکن میں کر کچھ نہیں سکتا کیونکہ جس نے بھی ان حرام خوروں کے ساتھ ٹکر لی ہے وہ سانحہ ساہیوال سے بھی بدنما عبرت بنا دیا گیا یہ بات حقیقت ہے کہ سانحہ ساہیوال ہائی لائٹ کیا گیا مگر انصاف یہاں بھی اسلامی جمہوریہ کا نہیں ہوا اس طرح کے کئی واقعات روز رونما ہوتے ہیں جن کی کوئی آواز نہیں بنتا یا پھر اسے بدترین طریقے سے دبا دیا جاتا ہے

میرے ساتھ ڈکیتی کا واقعہ 2018 میں سال کے دوسرے ماہ میں پیش آیا انصاف نہ ملا میری دعا تھی جناب عمران خان صاحب وزیراعظم بنیں گے قانون بہتر ہوگا تو میں اپنی اپیل دائر کروں گا مگر جب عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو لاقانونیت دیکھتے ہوئے مجھے اپنی جان کے لالے پڑ گئے جن کی وجہ سے اب میں ذہنی مریض ہو چکا ہوں سچ پر آواز اٹھانا چاہتا ہوں مگر مارے جانے کا ڈر لگتا ہے پھر خاموش ہو جاتا ہوں آج کوشش کرکے یہ ویڈیو بنانے کی کوشش کی کیونکہ معاملات عمران خان صاحب تک پہنچنے انتہائی ضروری ہیں
دوستو امید ہے آپ درد دل رکھتے ہوں گے اور اس آواز کو عمران خان تک پہنچانے میں زیادہ سے زیادہ شیئر کرکے میرا ساتھ دیں گے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.