آخر ماجرا کیا ہے؟ متاثرہ خاتون نے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا؟ وجہ جان کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) چار روز گزر جانے کے باوجود موٹروے زیادتی کیس کا ملزم نہیں پکڑا جا سکا، اگر پکڑا گیا تو تاحال باضابطہ طورپر گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ، دوسری طرف پولیس تاحال متاثرہ خاتون کا بیان ہی ریکارڈ نہیں کرسکی۔دنیا نیوز کے مطابق پولیس نے متاثرہ خاتون سےبیان ریکارڈکرانے،

موبائل فون کےحصول کیلئےرابطہ کیا اور متاثرہ خاتون سےبیان ریکارڈکرانےکی درخواست بھی کی لیکن متاثرہ خاتون کےاہلخانہ نے بیان ریکارڈکرانےسےمعذرت کرلی جس کی وجہ سے پولیس تاحال متاثرہ خاتون کابیان ریکارڈنہ کرسکی۔دوسری طرف ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ خاتون زیادتی کیس میں پولیس نے کرول گاؤں اوراطراف میں کارروائی کرتے ہوئے سنگین جرائم میں ملوث رہنے والے 10 ملزمان گرفتارکرلیے ۔ ان افراد سے ابتدائی تفتیش کےبعدڈی این اےٹیسٹ کرائےجائیں گے جبکہ مجموعی طور پر اب تک 53 مشتبہ افرادکےسیمپل ڈی این اےٹیسٹ کیلئےبھجوائے جاچکے ہیں۔یادرہے کہ پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف ہیں، 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا، ڈی این اے کیلئے نمونے فرانزک کیلئے بھجوا دیئے گئے ہیں، علاقے کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کو تلاش کرنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی۔ واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلو میٹر کا علاقہ چیک کر کے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر 7 مشتبہ افراد محمد کاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی

سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل 15 مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کر کے شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ادھر پنجاب حکومت نے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ وزیر قانون راجہ بشارت ہوں گے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی شامل ہیں۔ کمیٹی تین روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا، متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحرک ہیں۔ حکام نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے علاقے کے تمام افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے تمام 15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہو سکے ہیں، اس لئے حکام کی جانب سے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق تمام رہائشیوں کے ڈی این اے سیمپلنگ کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال بنایا جائے گا۔

۔ذرائع کیمطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جنگل سے خاتون سے لوٹی گئی طلائی انگوٹھی اور گھڑی مل گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون سے ڈکیتی کے بعد ڈاکو اسے کھائی میں لے گئے تھے، ڈاکوؤں نے خاتون سے ایک لاکھ نقدی اور زیورات لوٹے، انگوٹھی اور گھڑی ڈاکوؤں کے فرار کے دوران گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی اہلکاروں کو لوٹی ہوئی اشیاء ملیں جنہیں فنگر پرنٹ تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔دوسری طرف وزیر قانون راجہ بشارت نے وقوعہ کے مقام کا تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ دورہ کیا، وزیر قانون اور تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے واقعہ کے مقام کا جائزہ لیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ اس وقوعے کے ملزموں کی گرفتاری حکومت اور لاہور پولیس کیلئے ایک چیلنج ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ اس واقعہ سے جتنا عوام کا دل دکھا ہے اتنا ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت کے ہر فرد کا بھی دل دکھا ہے، اس صوبے میں رہنے والی خواتین کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور اگر کیس میں کوتاہی پائی گئی تو اس کو بھی دیکھا جائے گا۔ وزیر قانون نے کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی نے اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کی نگرانی بھی کرنی ہے اور ساتھ ساتھ مستقبل کیلئے لائحہ عمل بھی دینا ہے کہ تحقیق اور تفتیش کے عمل کیلئے کیا کیا اقدامات ضروری ہیں۔ پیٹرولنگ کو بہتر بنانے، شاہراہوں کی تحفظ اور تھانوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے گاڑیاں خریدی جا رہی ہے۔ شاہراہوں کی تحفظ کیلئے فورس کو دوبارہ سے فعال کیا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.