بلدیاتی انتخابات میں کامیابی چاہیے اور اپوزیشن ہلنے نہ پائے! عُمر شیخ کو کو کونسے ٹارگٹ پورے کرنے کے لیے ’سی سی پی اولاہور‘ تعینات کیا گیا؟ ساری کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ن لیگ کو توڑنے اور لاہور میں بلدیاتی انتخابات جیتنے کیلئے عمرشیخ کو سی سی پی او لاہور لگایا ، ان خیالات کا اظہار صحافی و تجزیہ کار عمران یعقوب خان نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ

جس وقت سی سی پی لاہور لگانے کا فیصلہ کیا جا رہا تھا تو وزیر اعظم کی کابینہ کے مرکزی رکن اور ان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے گوربر ہاؤس لاہور میں عمرشیخ کا انٹرویو کیا ، جس میں عمر شیخ کو مسلم لیگ ن کو توڑنے اور لاہور میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی دلوانے کا مطالبہ کیا گیا ، جس پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے شہزاد اکبر کو ان کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر وزیراعظم کے مشیر خصوصی نے انہیں پاس کیا۔انہوں نے کہا کہ عمر شیخ نے جو سابق آئی جی کے ساتھ کیا وہ سب کو پتہ ہے اس وقت بھی شعیب دستگیر کو ہٹایا گیا جبکہ سی سی پی او لاہور کو نہیں ہٹایا گیا حالانکہ دونوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا ، اس کے بعد عمر شیخ نے نئے آئی جی پنجاب کے بارے میں بھی افسران کو یہی کہا کہ آپ سب لوگ آئی جی صاحب کو نہیں بلکہ مجھے جواب دے ہیں ۔ واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور کے متنازع بیان پر وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شیزار اکبر نے شکوہ تیا تھا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے ایک بیان پر خوامخواہ تنازع شروع کردیا گیا ، اس سلسلے میں میری ان سے بات بھی ہوئی اور یہ خود بھی وضاحت کردیں گے ۔لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا، تاہم وفاقی حکومت کے اعتراض پر سی سی پی او لاہور نے معذرت بھی کرلی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے لکھا کہ وفاقی حکومت کے اعتراضات سی سی پی او لاہور عمر شیخ تک پہنچائے گئے ہیں، پولیس سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کی حفاظت کو یقینی بنائے،سی سی پی اور نے اپنے بیان پر معذرت کی ہے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو پکڑا جانا چاہیئے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.