طالبان کا پہلا پی ایچ ڈی ڈاکٹر، مگر اس نے تعلیم کب اور کہاں سے حاصل کی ؟ ایک حیران کن رپورٹ

دوحہ (ویب ڈیسک)افغان طالبان کی جانب سے سہیل شاہین کی جگہ ڈاکٹر نعیم وردک کو سیاسی دفتر کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے، یہ پہلے طالبان رہنما ہیں جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق طالبان نے سہیل شاہین کو مبینہ طور پر ایک متنازعہ ٹویٹ کے بعد عہدے سے ہٹایاہے۔

طالبان نے اس پر وضاحت تو جاری نہیں کی تاہم ایسا کہا جارہا ہے کہ سہیل شاہین نے افغان مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے بارے میں متنازعہ ٹویٹ کی تھی۔سہیل شاہین کی جگہ تعینات کیے جانے والے ڈاکٹر نعیم وردک پہلے بھی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کی ترجمانی کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ نعیم وردک 2008 میں ننگر ہار یونیورسٹی جلال آباد سے بی اے کرنے کے بعد پاکستان آئے اور اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، جہاں سے انہوں نے دوسال کے بعد عربی زبان میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔نعیم وردک نے بعد ازں اسی یونیورسٹی سے عربی علوم اور ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ افغان طالبان کے بیشتر رہنما جامعہ حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر نعیم بھی مختصر عرصے تک جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں زیرتعلیم رہے اور یہاں سے انہوں نے حدیث اور فقہ کے علوم سیکھے ۔ ان کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

You may also like...