ان سے اچھا تو شریفوں کا دور تھا :

اہور (ویب ڈیسک) چول پہ چول مارنے کے جتنے موجودہ حکمران ماہر ہیں، شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسے حکمران آئے ہوں گے۔ ایک واقعہ مجھے دوروز پہلے ایک افسر نے سنایا، وہ افسر شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں اُن کے ایڈیشنل سیکرٹری کے طورپر فرائض ادا کرتا رہا،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قصور کی زینب کا مجرم جب پکڑا گیا، مختلف شواہد اور ایجنسیوں سے اُس کی تصدیق ہوگئی وہی مجرم ہے تو شہباز شریف نے فوراً ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کرلیا، ان دنوں آئی جی پنجاب عارف نواز تھے، اُنہیں فوراً 8کلب روڈ پہنچنے کی ہدایت کی گئی، اُنہیں پریس کانفرنس کے بارے میں نہیں بتایا گیا، وہ 8کلب روڈ پہنچے، اُنہیں پریس کانفرنس کا پتہ چلا، اُنہوں نے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سے کہا ”یہ پریس کانفرنس مجھ سے پوچھے بغیر رکھ لی گئی ہے، مجھے ابھی ملزم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنی ہیں، جب تک میں ذاتی طورپر یہ تسلی نہ کرلوں اصلی ملزم یہی ہے، میں اِس پریس کانفرنس کے حق میں نہیں ہوں“،….پرنسپل سیکرٹری فرمانے لگے ”اب تو پریس کانفرنس کے تمام انتظامات ہوچکے ہیں، وزیراعلیٰ بھی پہنچنے والے ہیں، تمام صحافی تمام کرائم رپورٹرز پہنچ چکے ہیں، اب پریس کانفرنس ملتوی کرنا مناسب نہ ہوگا“۔ آئی جی عارف نواز خان نے فوری طورپر شہباز شریف سے رابطہ کیا، اُن سے کہا ”سر جب تک میری پوری تسلی نہیں ہوتی، میری گزارش ہے پریس کانفرنس نہ کی جائے“۔ ….شہباز شریف نے اُن کی بات مان لی، اور سیکرٹری اطلاعات حکومت پنجاب سے کہا صحافیوں اور کرائم رپورٹروں سے معذرت کرکے، اُنہیں چائے پلاکر واپس بھجوادیا جائے ….ایک دوروز بعد آئی جی عارف نواز کی ہرطرح سے جب تسلی ہوگئی اُنہوں نے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کو پیغام دیا، اب آپ جب چاہیں پریس کانفرنس رکھ لیں“۔ ….

دوسری جانب حالت یہ ہے موٹروے پر خاتون کو بے عزت کرنے والے ملزمان کی گرفتاری سے پہلے ہی جس بھونڈے انداز میں پریس کانفرنس کھڑکا دی گئی، مجھے اِس پر حیرت اس لیے نہیں ہوئی پورا ملک اس وقت عجیب وغریب مخلوق کے قبضے میں ہے، کوئی کام ان میں انسانوں والا نہیں، جانور بھی کہیں نہ کہیں اپنی عقل کا استعمال کرلیتے ہیں، یہ وہ مخلوق ہے عقل کا جس سے دُور دُور کا کوئی واسطہ نہیں،….کم ازکم میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا وزیراعلیٰ ، وزراءاور آئی جی پنجاب نے لوگوں کو یا میڈیا کو صرف یہ بتانے کے لیے پوری پریس کانفرنس کھڑکا دی ہو“ ہم نے ملزم کو گرفتار کرنے کی بہت کوشش اور پلاننگ کی، پر وہ بھاگ گیا، ….تقریباً اِسی طرح کی پلاننگ اور کوشش ایک سکھ فوجی نے بھی کی تھی، دوران لڑائی ایک پہاڑی پر کھڑے ہوکر، دوسری پہاڑی پر کھڑے اپنے سینئر افسر کو اُونچی آواز میں پکارتے ہوئے اُس نے کہا ” کرنل صاحب، کرنل صاحب میں دشمناں دا اِک فوجی پھڑ لیا جے“۔….کرنل صاحب بولے ”ویل ڈن، ویل ڈن کرتار سنگھ‘ اب اسے پکڑ کر میرے پاس لے کر آﺅ“ ….سکھ فوجی بولا ”سرجی میں اِس کو کیسے آپ کے پاس لے کر آﺅں یہ مجھے چھوڑ نہیں رہا“….موٹروے پر خاتون کے ساتھ غلط کاری کے جس مبینہ ملزم نے سی آئی اے ماڈل ٹاﺅن لاہور کو ازخود گرفتاری دی پریس کانفرنس میں اُسے ” ریکارڈ یافتہ ملزم“ قرار دیا گیا، جبکہ اُس کی گرفتاری کے بعد سی آئی اے پولیس نے بتایا اس کے خلاف کسی تھانے میں کسی ایف آئی آر کے درج ہونا تو دورکی بات ہے،

اس کے خلاف کبھی کوئی درخواست تک تھانے میں نہیں آئی۔ یہ جھوٹ پریس کانفرنس میں کیوں بولا گیا؟ اِس کے پیچھے کیا کہانی کیا مقاصد ہیں؟ یہ راز بھی کسی روز کھل جائے گا، پر یہ راز کسی سے چُھپا نہیں رہا جھوٹ بولنے اور مکرکرنے میں موجودہ حکمران سابقہ تمام حکمرانوں سے سبقت لے جانے کی انتہائی کامیاب کوشش کررہے ہیں، جس عجلت میں پریس کانفرنس کی گئی، اللہ نہ کرے اِس عجلت میں کچھ بے گناہوں کو ”پار“ کردیا جائے۔ اِس احمق حکومت پنجاب سے بڑے سے بڑے بلنڈر کی ہم توقع کرسکتے ہیں، …. مبینہ اطلاعات کے مطابق مالی اور اخلاقی طورپر بدعنوان افسر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور اصل ملزموں کو گرفتار نہ کرسکنے کا غصہ اِس انداز میں نکالنے کی کوشش کررہا ہے اُلٹا اُس نے موٹروے پر بداخلاقی کا شکار ہونے والی خاتون کی کردارکشی کی اُسی جوش وجذبے سے کوشش شروع کردی ہے جس جوش وجذبے سے وہ سی سی پی او لاہور بننے کے بعد اپنی ”کردار سازی“ کی کوشش کررہا ہے، سوشل میڈیا خصوصاً واٹس ایپ گروپس میں کچھ ایسے مسیجز اور جعلی رپورٹیں خاتون کے حوالے سے وائرل کروائی جارہی ہیں جن سے اُس خاتون کے کردار کے حوالے سے لوگ ” ڈبل مائینڈیڈ“ ہوجائیں، تحقیقات ہونی چاہئیں یہ سب کون کروارہا ہے؟بلکہ کون کون کروارہا ہے؟؟ ایک جعلی ٹی وی کا سکرین شاٹ بھی مختلف واٹس ایپ گروپ پر وائرل کروایا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لکھا ہے ”سی سی پی او لاہور عمر شیخ بہترین صلاحیتوں کے حامل افسر ہیں، اُنہیں ہرگز تبدیل نہیں کیا جائے گا“ ….

میں نے یہ وزیراعظم کو واٹس ایپ کیا پتہ چلااُنہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی…. یہ سب کون کروارہا ہے؟….سی سی پی او لاہور اپنی سیٹ بچانے کے لیے جتنے چاہیں ہاتھ پاﺅں مارلیں، آج نہیں تو کل اُنہیں ان شاءاللہ جانا پڑے گا۔ سی سی پی او لاہور بننے کے بعد جس تکبر کا مظاہرہ اُنہوں نے کیا یوں محسوس ہورہا تھا وزیراعظم نے اُنہیں اسٹام لکھ کر دے دیاہے ” میں وزیراعظم رہوں نہ رہوں تم سی سی پی او لاہور ہی رہو گے“۔ اِس عہدے پر فائز ہونے کے بعد جو بیانات اُنہوں نے دیئے، جو بڑھکیں اُنہوں نے ماریں،خصوصاً شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں جوکچھ اُنہوں نے کہا، جس انداز میں تضحیک کی کوشش کی، اُن کی یہ ساری بداعمالیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اُنہیں صرف ڈھیٹ حکمرانوں کی اندھی ضد کا فائدہ پہنچ رہا ہے، یہی فائدہ وزیراعلیٰ بزدار کو بھی پہنچ رہا ہے۔ پر اس سے عوام کا ، صوبے کا م ملک کا اور شہر کا جو نقصان ہورہا ہے، کاش وزیراعظم کو اُس کا احساس ہو جائے۔ جس پولیس افسر کے کردار پر ساری دنیا تھوتھوکررہی ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر حکمرانوں کی بدنامی ہورہی ہے، مجھے حیرت ہے اُس افسر کی سرپرستی سے حکمران ایک انچ پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بزدار نے فرمایا ”موٹروے پر نشانہ بننے والی خاتون کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر سی سی پی او لاہور کو شوکاز نوٹس دے دیا گیا ہے، سات یوم میں اُن سے جواب مانگا گیا ہے۔ اُس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی ہوگی“۔ ہم اُن سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں، پہلے کون سے ”قانون“ کے تحت گریڈ بیس کے مالی واخلاقی لحاظ سے کرپٹ پولیس افسر کو گریڈ اکیس کی سیٹ پر لاکر بیٹھا دیا گیا؟ پاکستان میں کوئی قانون ہو تو کسی کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کارروائی ہوناں…. نواز شریف وزیراعظم تھے، افغانستان کے وزیر ریلوے پاکستان آئے، سیکرٹری خارجہ نے اُن کا تعارف کرواتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ”یہ افغانستان کے وزیر ریلوے ہیں“ ….نوازشریف نے اُن کی طرف اور سیکرٹری خارجہ کی طرف غور سے دیکھا، اور کہا ”یہ افغانستان کے وزیر ریلوے کیسے ہوگئے؟ افغانستان میں تو ریلوے ہی نہیں ہے“ …. اِس پر افغانستان کے وزیر ریلوے نے جواب دیا ”سر آپ کے ہاں بھی تو وزیر قانون ہوتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.