بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں حیران کن حقائق سامنے رکھ دیے گئے

کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے غلطی کررہا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں حیران کن حقائق سامنے رکھ دیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کے بعد اب بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور منگل کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنما اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کریں گے۔
نامور صحافی شکیل اختر بی بی سی کے لیے اپنی خٰصوصی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ دونوں خلیجی ممالک سعودی عرب کے قریب ترین اتحادی ہیں اور بعض مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی مکمل حمایت کے بغیر وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔اس سے قبل اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کے بعد ابوظہبی اور تل ابیب کے درمیان پروازیں شروع ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی طیارے سعودی عرب، کویت اور بحرین کی فصائی حدود سے گزر کر امارات پہنچیں گے۔ ہزاروں اسرائیلی اور اماراتی تل ابیب، دبئی اور ابوظہبی پرواز کرنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے صدر نے گزشتہ دنوں ایک فرمان کے ذریعے اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کی قرار داد کو ختم کر کے اسرائیل سے اقتصادی تعلقات کے آغاز کی راہ ہموار کر دی ہے۔اس معاہدے کا فلسطینیوں کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا یہ ابھی معلوم نہیں لیکن فلسطینیوں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا ہے۔ فلسطین نے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے پر بحرین کی بھی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ بحرین اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا عرب ملک ہے۔صدر ٹرمپ نے پچھلے دنوں اسرائیل بحرین معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والے ہیں۔اخبار نیویارک ٹائمز نے پرنسٹن یونیورسٹی میں سعودی امور کے ایک ماہر برنارڈ ہیکل کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ ایک سلسے کا آغاز ہے اور اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ سعودی عرب اسی جانب گامزن ہے حالانکہ سعودی فرمانروا کے لیے یہ راستہ مشکلوں سے بھرا ہوا ہو گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.